حضورﷺنے فرمایا مشکلوں سے لڑنا ہے تو ایک بات سیکھ لو؟ کبھی ناکام نہیں ہو گے

حضورﷺ

;نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: حیاء کے دس حصے ہیں ،نوحصے عورتوں میں ہیں اور ایک حصہ مردوں میں ہے۔محبت اور آنسوؤں کا بھرم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں رکھتا۔مشکلوں سے لڑنا نہیں بلکہ سنبھل کر گزرنا سیکھو ورنہ آپ کی شخصیت تباہ ہوجائے گی۔مومن ہمیشہ معاف کرنے کے لئے مواقع ڈھونڈتا ہے ،جب کہ منافق ہمیشہ عیب ڈھونڈتا ہے ۔بدلہ لینے سے پہلے یہ ضرور خیال کرلیا کرو کہتم اپنے خدا کے نزدیک کتنے قصور وار ہو۔ حق کے راستے میں سب سے بڑی سختی یہ آتی ہے کہ انسان تنہا رہ جاتا ہے ۔

کچھ ایسے بن جاؤ کہ تمہیں دیکھنے والے تمہارے تربیت کرنے والے کے حق میں دعائیں کریں۔نفرت ایک ایسا مردہ ہے جسے لوگ اپنے دلوں میں رکھ کر قبرستان بنا دیتے ہیں ۔جو دل دنیا کا ٹھکانہ بن جاتا ہے آخرت وہاں سے کوچ کر جاتی ہے ۔ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮔﮭﺮ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﮔﺌﮯﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺁﭖ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻏﻠﻄﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺟﺴﮯ ﺩﺭﺍ ﻣﺎﺭﺍ ﺗﮭﺎ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﺭﺍ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﺁﮔﮯ ﮐﯽ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﺭﺍ ﻣﺎﺭﻭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﯽ ﮨﮯﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ،ﭼﻮﺑﯿﺲ ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻡ ﺁﺩﻣﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺳﺰﺍ ﺩﻭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻞ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ

ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺍﻣﺎﺭﻭ ﺍﭘﻨﮯﺭﺏ ﮐﮯ ﺍﺣﺴﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﯿﺎ ﺁﺝ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﻖ ﺩﻻﻭ ﺗﻮ ﺗﻮﺍﺳﮯ ﺩﺭﺍ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﮮ ﻋﻤﺮ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﮮ ﮔﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﻞ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﺩﯾﻨﺎ ﭘﮍﮮ ﮔﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺩﮬﺮﺍﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﯼ ﺩﯾﺮ ﺭﻭﺗﮯ ﺭﮨﮯ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو میرے نزدیک تمھارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خطرناک ہے وہ ہے چھپا ہوا شرک، (یعنی) کہ آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے تو وہ اپنی نماز خوبصورت بناتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment