سردیوں میں لگاتار 7 دنوں تک دودھ کے ساتھ انجیر کا استعمال کرنے کے فائدے

انجیر

ڈیلی کائنات! انجیروہ پھل ہےجسے جنت کا پھل کہا جاتا ہے . قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انجیر کی قسم یا د فرمائی ہے کہ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طورسینا کی ( سورہ التین) . یہ کمزور اور دبلے لوگوں کے لئے بیش بہا نعمت ہے .ا نجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے . چہرے کو سرخ و سفید رنگت عطاکرتا ہے ۔

انجیر کا شمار عام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے . ماہرین کے مطابق پھگوڑی انجیر کو بنگالی میں آنجیر ، عربی میں تین اور انگلش میں فِگ ، یمنی میں بلس ، سنسکرت ، ہندی ، مرہٹی اور گجراتی میں انجیر اور پنجابی میں ہنجیر کہتے ہیں . اس کا نباتاتی نام فیک کیریکا ہے ۔ عام پھلوں میں یہ سب سے نازک پھل ہےاور پکنے کے بعد خود بخودہی گرجاتا ہے اور دوسرے دن تک محفوظ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا . فریج میں رکھنے سے یہ شام تک پھٹ جاتا ہے .اس کے استعمال کی بہترین صورت اسے خشک کرنا ہے . اسے خشک کرنے کے دوران

جراثیم سے پاک کرنے کے لئے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور آخر میں نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں تاکہ سوکھنے کے بعد نرم و ملائم انجیر کھانے میں خوش ذائقہ ہو . اس لئے ہر عمر کے لوگوں میں اسے پسند بھی کیا جاتا ہے . عرب ممالک میں خاص طور پر اسے زیادہ پسند کیا جاتا ہے . انجیر پاکستان میں بھی بکثرت دستیاب ہے اور اسے ڈوری میں ہار کی شکل میں پروکرمارکیٹ میں لاتے ہیں . یہ بنیادی طور پر مشرقی وسطی اور ایشیائے کو چک کاپھل ہے . اگرچہ یہ برصغیر پاک و ہند میں بھی پایا جاتا ہے . مگر اس علاقے میں مسلمانوں

کی آمد سے پہلے اس کا سراغ نہیں ملتا . اس لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عرب سے آنے والے مسلمان اطباء یا ایشیائے کو چک سے منگول اور مغل اسے یہاں لائے . انجیر کے اندر پروٹین ، معدنی اجزاء شکر ، کیلشیم ، فاسفورس پائے جاتے ہیں۔ .دونوں انجیر یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میں ہوتے ہیں . وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں . ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے عام کمزوری اور بخار میں اس کا استعمال اچھے نتائج کا حامل ہوگا . انجیر کو بطور میوہ بھی استعمال کیا جاتا ہے اور بطور دوا بھی استعمال کیا جاتاہے یہ قابل ہضم ہے اور فضلات کو خارج کرتا ہے . مواد کو باہر

نکال کر شدت حرارت میں کمی کرتا ہے . جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتاہے . انجیر کی بہترین قسم سفید ہے . یہ گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کرکے نکال دیتا ہے . زہر کے مضر اثرات سے بچاتا ہے . انجیر کو مغر بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملا کر استعمال کریں تو یہ خطرناک زہروں سے محفوظ رکھتا ہے اگر بخار کی حالت میں مریض کا منہ بار بار خشک ہوجاتاہوتو اس کا گود ہ منہ میں رکھنے سے یہ تکلیف رفع ہو جاتی ہے .اس کو نہار منہ کھانا بہت فوائد کا حامل ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے بے شمار فوائد ہیں . * انجیر کو دودھ میں پکا

کر پھوڑوں پر باندھنے سے پھوڑے جلدی پھٹ جاتے ہیں . * انجیر کو پانی میں بھگو کر رکھیں . چند گھنٹے بعد پھول جانے پر دن میں دوبار کھائیں ، دائمی قبض دور ہو جاتی ہے . * خشک انجیر کو رات بھر پا نی میں رکھ دیا جائے تو وہ تازہ انجیر کی طرح پھول جائے گا . اسے کھانے سے گلہ بیٹھ جانا یا بند ہوجانے کے امراض پیدا نہیں ہوتے ۔ * سردی کے ایام میں بچوں کو خشک انجیردی جائے تو ان کی نشوونما کے لئے بے حد مفید ہے . * انجیر زودہضم ہے اور دانتوں کے لئے بہترین ہے . * کم وزن والوں اور دماغی کام کرنے والوں کے لئے انجیر

بہترین تحفہ ہے . * انجیر کھانے سے آدمی مرض قولنج سے محفوظ رہتا ہے . * کھانے کے بعد چند دانے انجیر کھانے سے غذائیت حاصل ہونے کے علاوہ قبض کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے . * کھانسی ، دمہ اور بلغم کے لئے بھی مفید ہے . * انجیر کھانے سے منہ کی بدبو ختم ہوجاتی ہے . * انجیر کا باقاعدہ استعمال سر کے بالوں کو دراز کرتا ہے . * انجیر کو سرکہ میں ڈال کر رکھ دیں. ایک ہفتہ بعد دو تین انجیرکھانے کے بعد کھانے سے تلی کے ورم کو آرام آجاتا ہے . * انجیر کو دودھ کے ساتھ استعمال کرنے سے رنگت نکھر آتی ہے اور جسم فربہ ہوجاتا ہے

. * تازہ انجیر توڑنے سے جو دودھ نکلتا ہے اس کے دو چار قطرے برص پر ملنے سے داغ ختم ہو جاتے ہیں . * انجیر پیاز کی شدت کو کم کرتا ہے . * جن لوگوں کو پسینہ نہ آتا ہو ، ان کے لئے انجیر کا استعمال مفید ہے . * انجیر خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتا ہے اور زہریلے مادے ختم کرکے خون کو صاف کرتا ہے . * جن لوگوں کی ضعف دماغ ( دماغ کی کمزوری) کی شکایت ہو ، وہ اس طرح ناشتہ کریں کہ پہلے تین چار انجیر کھائیں ، پھر سات دانے بادام ، ایک اخروٹ کا مغز ، ایک چھوٹی الائچی کے دانے پیس کر پانی میں چینی ملا کر پی لیں ۔ * کمر میں درد ہوتو انجیر کے تین چار دانے روزانہ کھانے سے درد سے نجات مل جاتی ہے . * بواسیر کی شکایت ہوتو انجیر کا استعمال کریں

Leave a Comment